ابنا: یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب پیر کو ہی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اعلان کیا تھا کہ شامی حکومت اور باغی گروہ 22 جنوری کو جنیوا-2 کانفرنس میں شرکت کریں گے۔نام نہاد فری سیرئین آرمی کے سرغنہ سلیم ادریس نے الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ وہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت گرانے کے لیے مسلح کارروائی جاری رکھیں گے۔اقوام متحدہ کی جانب سے شام پر بین الاقوامی کانفرنس میں ایران کی شرکت کو بھی یقینی بتایا گیا ہے۔پیر کو اقوام متحدہ کے ترجمان مارٹن نیسرکی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ شام کے امور میں اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے نمایندے اخضر ابراہیمی نے واضح کیا ہے کہ شام میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے 22 جنوری کو جنیوا میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں ایران کی شرکت حتمی ہے۔سلیم ادریس نے کہا ہے کہ ہم جنیوا کانفرس کے دوران اور اس کے بعد بھی اپنی جنگی کارروائیاں جاری رکھیں گے اور ہمیں تشویش اس بات کی ہے کہ ہمارے جنگجوؤں کو اسلحے کی ضرورت ہے۔جنیوا میں مذاکرات میں شرکت کے موضوع پر شام میں تشدد میں ملوث باغی گروہ منقسم ہیں اور ان کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق 2011 میں صدر بشار الاسد کے خلاف شام میں بغاوت کے آغاز سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں کو ملک چھوڑنا پڑا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے توقع ظاہر کی کہ دونوں فریق یہ بات سمجھ کر آئیں گے کہ اس ملاقات کا مقصد جون 2012 میں اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ شام کے لیے ایک ایکشن گروپ کے اجلاس کی منظور کردہ قرارداد پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔ اس قرارداد میں فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔......./169
26 نومبر 2013 - 20:30
News ID: 483709
شام میں مغرب، ترکی اور چند عرب ممالک کے حمایت یافتہ مسلح باغیوں کی نام نہاد تنظیم فری سیرئین آرمی نے جنیوا میں منعقد ہونے والی امن کانفرس میں شرکت سے انکار کیا ہے۔